Posts

عمران خان کا داڑھی والوں پر اعتراض اور اُس کا منہ توڑ جواب

Image
جہاں تک عمران خان کے بیان کا تعلق ہے تو انہوں نے ڈاڑھی پہ طنز نہیں کی ہے بلکہ صرف سیاست دان ڈاڑھی والوں پر طنز کی ہے اور بالکل صحیح کہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ داڑھی والے جو سیاست دان ہیں اُن میں سے اسی فیصد دو نمبر ہیں انہوں نے تو تھوڑا ہلکا لفظ بولا ہے میں تو کہتا بے ایمان بھی بول دیتا تو آجکل کے سیاست فانوں پر فٹ آ جاتا۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ عمران خان صاحب نے صرف سیاست فانوں کے بارے میں کہا ہے اور خبیث فطرت کے لوگ اس بیان کو تمام داڑھی والوں پر فِٹ کر کے اپنی فتووں کی کسی فیکٹری سے عمران خان پر کُفر کا فتوٰی لینے کے چکر میں ہیں۔ میں کہتا ہوں ہر ایسے شخص پر کروڑوں بار لعنت ہو جو کسی مسلمان کو کافر بنانے کی فکر میں رہتا ہو۔ کیا کسی بھی مسلمان کی شان کے لائق ہے کہ وہ کسی مسلمان کو کافر بنانے کی کوشش کرتا رہے جیسا کہ عمران خان کے مخالفین دن رات یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح عمران خان کو کافر بنا دیا جائے۔ لعنت ہے تمہاری سوچ پر۔ تمہاری سوچ تو کافروں والی سوچ ہے۔ کفر بھی یہی چاہتے ہیں کہ وہ کسی طرح اہل ایمان کو کافر بنا دیں اور تم بھی وہی کر رہے ہو۔ شرم آنی چاہیے تمہیں اپنے اس فعل پر۔...

پیپسی کا بائیکاٹ کرو

Image
ہم سوشل میڈیا کے ساتھیوں نے اسرائیل کے بائیکاٹ کی ابتدا پیپسی کے بائیکاٹ سے کی ہے۔ یہ وقتی اور جذباتی بائیکاٹ نہیں ہے۔ آخری دم تک کے لئے ہے کہ ان شآء اللہ پیپسی نہیں پیئیں گے۔ نہ خریدیں گے اور جہاں تک ممکن ہوا اپنے دائرہ اثر میں اسے نہیں آنے دیں گے۔ اس کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہیں۔ آپ ایک کا بائیکاٹ کریں گے لوگ کہیں گے اور بھی تو چیزیں ہیں۔ ان کا بھی بائیکاٹ کرو۔ بھائی نقطہ آغاز صرف ایک ، واضح اور مشہور و آسان چیز سے ہونا چاھئے۔ جب بات چل نکلے گی تو سب آسان ہوجائے گا۔ اس میں ملک و ملت اور امت کا فائدہ بھی ہے اور صحت کی حفاظت بھی۔ اور یہودیت اور انکے سرمایہ دار پارٹنرز کا نقصان بھی۔ مقصد ہے کچھ کرنا ، ابتدا اور آغاز کرنا۔ تعداد اور گنتی سے ہٹ کر صرف اللہ کی رضا اور امت کی فلاح کے لئے۔ اسرائیل اور اسکے مالی معاونین کا بائیکاٹ ہم سب کا فریضہ ہے ہم شعور و آگاہی کی اس مہم کا آغاز تو کریں ہر کام کے لئے بڑوں کے حکم کا انتطار نہ کریں بڑے اپنے محاذ پر لگے ہوئے ہیں۔ ہم سے جو بن پڑ ے ہمیں خود کرنا چاہیے۔ اگر متفق ہیں تو شئیر کریں۔ پاکستان کے 21 کروڑ لوگوں میں سے صرف% 30 لوگ روزانہ 10 روپے کا جوس...

مسلم لیگ نون سوشل میڈیا نیٹ ورک

Image
نوازشریف کہتا ہے سوشل میڈیا کی اتنی فورس بنائیں گے کہ مخالفین کو خوف آنے لگے کیا آپ کو پتا ہے یہ فورس کس کے خلاف استعمال ہوگی ؟ عمران خان کے خلاف کرے گا تو عمران خان کے حامی بہت ہیں وہ تو پہلے سے ہی ان کی مٹی پلید کیے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مسئلہ یہ ہے کہ جب یہی کُتوں کی فورس پاک فوج اور دوسرے دفاعی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرے گی تو ان کو جواب کون دے گا ؟ کیا اس نون کی میڈیا فورس کے مقابلے میں پاک فوج یا عدلیہ کا بھی کوئی میڈیا نیٹ ورک ہے جو انہیں وقتاً فوقتاً جوابات سے نوازتا رہے ، میرے خیال سے ہرگز نہیں۔ کیونکہ عدلیہ یا پاک فوج نے کام کرنا ہے اور وہ احسن طریقے سے اپنا کام کر بھی رہے ہیں۔ مگر اُن کے دفاع کے لیے ہمیں اب مزید محنت کرنا ہو گی جو لوگ کسی بھی سیاسی و مذہبی جماعت کے حامی ہیں وہ فوج یا دفاعی اداروں کے حق میں بات صرف فارمیلٹی کے طور پر کرتے ہیں جب انہیں محسوس ہو کہ فوج یا عسکری حلقے انکی خواہشات کو پورا نہیں کرسکتے تو ہلکی پھُلکی طنزیہ بکواسات تو ہوتی ہی ہیں ساتھ ساتھ انکے جاہل حامی بڑا گند مچاتے ہیں اس لیئے جو لوگ خالصتاً دفاعِ پاکستان کے لیئے سوشل میڈیا استعمال کر رہے...

بچوں پر تشدد

Image
ہم اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کی جگہ انہیں احساس کمتری میں خود مبتلا کرتے ہیں جس سے اُن کی ذہنی و جسمانی صحت پر بہت بُرے اثرات پڑتے ہیں۔ بارہا کا تجربہ ہے کہ جس بچے کے بارے میں گھر کے بڑے افراد یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ نکمہ ہے تو اُس کا دل ٹوٹ جاتا ہے اور واقعی نکمہ ہی رہنا پسند کرتا ، وہ کہیں بھی اپنی قابلیت ظاہر کرنے کی کوشش نہیں کرتا اور اِس کے برعکس گھر کے بڑے افراد جس بچے کے بارے میں اکثر و بیشتر بولتے رہتے ہوں کہ یہ بڑا عقل مند اور ہونہار ہے تو وہ واقعی بڑا ہونہار ثابت ہوتا ہے اور ہونہار بننے کی پوری پوری کوشش بھی کرتا ہے۔ تو اس لیے اپنے بچوں کے حوصلے بڑھائیں انہیں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتے رہا کریں۔ اس سے بچے کی پوشیدہ قابلیتیں کُھل کر سامنے آ جاتی ہیں اور وہ ہر میدان میں ایک کامیاب انسان بننے کی کوشش کر سکتا ہے۔ بلا ضرورت بچوں کو ڈانٹنا اور ان پر غصہ کرنا ایک تو آپ کے بچوں کو آپ سے متنفر کر دیتا ہے۔ اور آئندہ وہ بہت کچھ کر سکنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود کچھ نہیں کر پاتے۔ اس لیے جہاں تک ممکن ہو بلکہ پوری کوشش کریں کہ طعنے سے گریز کریں ، اگر بالفرض بچے سے اگر غلطی سرزد ہو حائے تو بج...

پی آئی اے میں کرسچن ڈے کی تقریبات

Image
پوسٹ میں دی گئی تصاویر  پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائین(PIA) کی ہیں ، اب کوئی بتا سکتا ہے کہ یہاں کفار نے مسلمانوں کی مشابہت اختیار کی ہے یا پھر مسلمان عیسائیوں کی مشابہت اختیار کر چکے ہیں ، فیصلہ آپ کا....!!! نبی صلی اللہ علیہ و سلم  نے جہاں یہ خبر دی کہ یہ امت مشابہت کفار میں مبتلا ہو گی وہاں اس موذی مرض سے بچنے کی بھی سخت تلقین فرمائی۔  مثال کے طور پر: نبی صلی اللہ علیہ و سلم  نے کفار کی مشابہت سے بچنے کی جو تلقین فرمائی ہے وہ مختصر بھی ہے اور جامع بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا: (من تشبہ بقوم فھو منھم) (ابوداؤد) ’’جو شخص جس قوم سے مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہے۔‘‘ اسی طرح اس حدیث میں بھی ہے۔ لتتبعن سنن من کان قبلکم(بخاری ، حدیث) ’’تم اپنے سے پہلوں کی پیروی کرو گے۔‘‘ یہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم  نے خبردار کرنے کے لیے فرمایا کہ دیکھو مشابہت کا دور ہو گا تو تم بچ کر رہنا۔ اسی طرح اور بہت ساری احادیث مبارکہ ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا: خالفوا المشرکین ’’مشرکین کی مخالفت کرو۔‘‘ پھر فرمایا: خالفوا الیہود...

چور اور حاسد میں موازنہ

Image
بعض لوگوں میں حسد کی آگ اتنی شدت سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے مخالف کی تباہی و بربادی کے حربوں پر عمل پیر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں حاسدین کے شر سے پناہ مانگنے کا فرمایا ہے وٙ مِنْ شٙرِّ حٙاسِد اِذٙا حٙسٙدٙ یعنی حاسد کے حاسدانہ شر سے پناہ مانگو جب وہ حسد پہ اتر آئے۔ حاسد حسد کی وجہ سے نہیں چاہتا کہ آپ مالدار رہیں اور خوش و خرم رہیں بلکہ وہ آپ کو غموں میں مبتلا اور تباہ و برباد ہوتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے مگر ایک چور ہی ہے جو خود تو چوری کرتا ہے مگر آپ کے مالدار ہونے کی دعا کرتا ہے تاکہ جب وہ آپ کی چوری کرنے آئے تو اُسے کچھ مل سکے اور اُسے خالی ہاتھ نہ لوٹنا پڑے۔ وہ جب چوری کرنے آتا ہے تو دل میں دُعا کر رہا ہوتا ہے کہ اللہ کرے بہت سا مال مل جائے۔ آپ کے حق میں نیت اُس کی بھی اچھی نہیں ہوتی کیونکہ وہ آپ کا مال چُرانا چاہتا ہے مگر پھر بھی وہ حاسد سے کئی درجے بہتر ہوتا ہے۔ چور اور حاسد میں فرق یہ ہے کہ چور چاہتا ہے آپ کے مال میں سے وہ کچھ چُرا کر لے جائے اور اگر وہ نہیں چُرا سکتا تو آپ کا مال آپ کے پاس رہتا ہے جبکہ حاسد تو یہ چاہتا ہے کہ بس کچھ بھی ہو یا کسی بھی ط...

پردیسی کی زندگی

Image
آج کل اکثریت کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنا ملک چھوڑ کر کسی دُوسرے ملک چلے جائیں تاکہ وہاں سے ڈھیر سارا پیسہ اور مال لے آئیں مگر اُس بیچارے کو ملتا وہی ہے جو اُس کے نصیب میں ہوتا ہے۔ خواہ وہ ہزاروں لاکھوں ہی کما رہا ہو مگر پھر بھی اُس کے پاس وہی رہنا ہے جو اس کا اپنا نصیب ہوتا ہے۔ ہر ماہ ہزاروں لاکھوں کمانے والا پردیس میں گدھے اور گھوڑے کی سی زندگی گزارتا ہے۔ پردیس میں جو رُوکھا سُوکھا مل جاتا ہے بیچارہ کھا کر گزارہ کر لیتا ہے اور کام کے لیے بھاگتا رہتا ہے۔ پردیس کی زندگی میں وہ عزت و آسائش نصیب نہیں ہو سکتی جو وطن میں ہوتی ہے۔ پردیس جانے والا ہر نیا آدمی شوق اور نئی اُمنگوں کے ساتھ پردیس جاتا ہے مگر تھوڑے ہی عرصے میں اُس کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ میں خود بھی پردیس میں ہوں یہ سب کچھ اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں لکھ رہا ہوں۔ یہاں میں نے ماہانہ لاکھوں روپے کمائی کرنے والے دیکھ رہا ہوں مگر اِن کے چہروں پر وہ خوشی نظر نہیں آتی جو میرے وطن میں ایک چھابڑی یا ریڑھی والے کے چہرے پر دیکھی جا سکتی ہے۔ پردیسی آدمی صرف پردیس کا ہی ہو کر رہ جاتا ہے۔ نہ تو وہ اچانک کسی خُوشی میں شریک ہو سکتا ہے ا...